Wednesday, 17 December 2014

عبد القاد ر ملا شہید(رح)۔۔۔۔ہم مجرم ہیں

0 comments


بنگلہ دیشی نام نہاد عدلیہ اور حکومت نے 71ئ کی جنگ میں پاکستانی فوج کے ہمراہ انڈین فوج اور مکتی باہنی کے خلاف جدوجہد کرنے کے جرم کی پاداش میں عبد القادر ملاکو پھانسی دے دی ۔رائ کی ایجنٹ یہ حکومت 2009ئ میں جب برسر اقتدا رآئی تو اس بے لگام ہاتھی نے اسلامی تنظیموں پر ظلم وستم کے پہاڑ دیے ،ظلم وزیادتی کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیااور مزید ہمارے ازلی دشمن نے جماعت پر یہ الزم لگایا کہ جماعت کے ساتھ محبت رکھنے والوں میں 25فیصد لوگ بھار ت مخالف نظریات رکھتے ہیں اور یہ لوگ آئی ایس آئی کے ساتھ مل ہوئے ہیں لیکن زمینی حقائق اس بات پر گواہ ہیں حسینہ واجد اور تمام خفیہ ایجنسیاں اسلام پسند قوتوں کے خلاف دن رات کوشاں ہیں اس تسلسل کی کڑی عبد القادرملا کی پھانسی ہے اور بھاتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے اس بیان کے بعد جماعت اسلامی سمیت تمام دینی شخصیات اس نام نہاد حکومت کے زیر عتاب ہیں
عبد القاد ر ملا سے میں کبھی بھی اپنی زندگی میں نہ ملا ہوں اور نہ ہی کبھی ان کو براہ راست دیکھا ہے لیکن ان کا نام اور ان کی عظیم جدوجہد کو جب دیکھتا ہوں تو میری آنکھوں سے بے اختیار آنسوں جھلک پڑتے ہیںجو دین کی خاطر اور میرے وطن کی خاطر اپنی جان قربان کر گیا۔
عبد القادر ملا کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے پاکستان سے محبت اور وفا کی ،1971ئ میں پاکستان کی سالمیت اور یکجہتی کے لیے کوشش کیں اور ہر قسم کی تکلیفیں اٹھائیں۔
اس خدمت کا بدلہ انہیں سولی پرلٹکا دیا گیا ،نام نہاد عدالت اور اس کے پشت پناہی کرنے والی حسینہ واجد یہ بھول گئی ہے کہ یہ تو حضرت مصعب کی سنت تازہ ہو گئی ہے وہ یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ اسلام دب گیا یہ اس کی کم عقلی اور اسلام دشمن سوچ ہے یہ خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ اس خون سے ناصرف بنگلہ دیش میں اسلام انقلاب آئے گا بلکہ دنیا بھر میں اسلام کے نفاذ کے لیے راستہ ہموار ہو گا۔
حیرت یہ ہے کہ عبد القادر شہید نے جس ملک کی خاطر پھانسی کے پھندے پر جھول گیا اس ملک کے حکمران کہتے ہیں کہ یہ بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ ہیں ،اس ملک کے اندر ملالہ اور سوات کے اندر بننے والی جعلی کوڑوں کی فلم پر پوری دنیا میں انسانی حقوق کی آڑ میں ہلچل مچا دینے والوں کو آج اس کو سانپ سونگ گیا؟،ٹی وی چینلز اور ٹاک شو ز پر بیٹھ کر تبصر کرنے والوں کی زبان کو آج تالا لگ گیا ؟،انسانی حقوق کی علبردار تنظیمیں آج منہ چھپا رہی ہیں ،اعلی ٰافواج کے سربراہان اور لفظ شہید پر اپنی ملکیت ثابت کرنے والے آج کس کو شہید کہیں گے ایک وہ جو پاک فوج کا ساتھ دینے کے جرم میں جان قربان کر گیا دوسرے وہ 90ہزار کی تعداد میں ہتھیار پھینک آئے ،پاکستان کے سیاست دان جو بھٹو کو تو عدالتی قتل قرار دیتے ہیں مگر آج وہ کس مصلحت کو اختیار کیے ہوئے ہیں؟
مولانا عبدالقادر ملا پر الزام یہ لگایا گیا کہ البدر کا حصہ ہوتے ہوئے‘ جن کی عمر اس وقت 21 سال تھی‘ انہوں نے بنگالیوں پر ظلم کیا‘ انہیں قتل کیا اور خواتین کی بے حرمتی کی۔ ان الزامات کی بنیاد پر انہیں اور دوسرے جماعت اسلامی کے اہم قائدین کو اس عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جسے کینگرو کورٹ کا نام دیا جائے تو کوئی اچنبھے کی بات نہ ہوگی۔اس کینگرو کورٹ کو جنگی جرائم کے خلاف انٹرنیشنل ٹرائل کورٹ کا نام دیا گیا جبکہ اس عدالت میں تینوں جج بنگالی تھے اور جس طرح شہادتیں پیش کی گئیں اور کئی سالوں تک استغاثہ ہی کے ہاتھوں ’’جنگی مجرموں‘‘ کے خلاف کاروائی ہوتی رہی اور پھانسی کی سزائیں دی گئیں۔ اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف حکومت پاکستان نے احتجاج کو در کنار بلکہ ہلکا سا بھی اعتراض کا ایک لفظ بھی نہ بولا‘ بلکہ یہ کہہ کر زبان کو تالا لگا لیا کہ ’’یہ بنگلہ دیش کا اندرونی مسئلہ ہے۔‘‘
یہ بنگالیوںکا اندرونی معاملہ نہیں ہے بلکہ نظریہ پاکستان کے تقدس اور عزت کا معاملہ ہے۔ پاکستان کی سلامتی کا معاملہ ہے۔ اسلئے کہ ہمارا مشرقی پاکستان کا علاقہ کہ جہاں مسلم لیگ ایک جماعت کی حیثیت سے معرض وجود میں آئی تھی اور جہاں کے مسلمانوں نے یک زبان ہو کر پاکستان کے حق میں ووٹ دیا‘ آج ہم ان سے اس قدر بیگانہ ہو چکے ہیں کہ ہم اپنے ہم وطنوں کی ان قربانیوں کو بھی بھلا بیٹھے ہیں کہ جنہوں نے ہماری فوج کے ساتھ مل کر ملک کی بقا کی جنگ لڑی‘ قربانیاں دیں ‘ جس طرح ہماری فوجی جوان اور آفیسر اس جنگ میں شہید ہوئے اور ان میں اکثر وہاں گمنام قبروں میں دفن ہیں۔ ہماری حکومت نے ان کے جسد خاکی کو پاکستان لانے کی ایک موہوم سی کوشش بھی نہیں کی جبکہ ویتنام کی جنگ ختم ہونے کے نصف صدی گزرنے کے بعد بھی امریکہ اپنے گمنام سپاہیوں کو تلاش کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اس لئے کہ اس قوم کو حب الوطنی کے معنی معلوم ہیں۔
تاریخ نے ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرایا ہے کہ جس طرح امام حسن البنائ شہید(رح) کی شہادت کے موقع پر رات کی تاریکی میں دفن کردیا گیا با الکل اسی طرح شہید ملاعبدالقادر (رح)کو رات کی تاریکی میں فوج کے سخت پہرے میں ان کی میت کو ان کے آبائی گائوں لے جایا گیاچند افراد کی موجودگی میںجنازہ پڑھا کر دفن کر دیا گیاخاندان والوںا ور اہل علاقہ کو بھی جنازے میںشرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔
پرویز مشرف کو جب ان کی والدہ سے ملنے پر پابندی لگائی گئی تو ان کے معروف وکیل اور دیگر انسانی حقوق کے چیمپین تنظیموں نے خوب واویلا کیا مگر عبد القادر ملا کے گھر والوں کو جب جنازے سے روکا گیا تواس وقت انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا دی گئیںمگر یہ سب کس غار میں تھے ؟
ملاعبد القادر شہید کا ایمان افروز خط جو کہ حق کے راستے پر چلنے والوں کو زاد ہ راہ مہیا کرتا ہے ۔
مجھے نئے کپڑے فراہم کر دیے گئے ہیں نہانے کا پانی بالٹی میں موجود ہے ۔سپاہی کا آرڈر ہے کہ جلد ازجلد غسل کر لوں کال کوٹھری میں بہت زیاد ہ آنا جانا لگا ہوا ہے ہر سپاہی جھانک کر جارہا ہے کچھ کے چہرے افسردہ اور کچھ چہروں پر خوشی نمایاں ہے ان کا بار بار آنا میری تلاوت میں خلل ڈال رہا ہے میرے سامنے سید مودوی کی تفہیم القرآن موجود ہے ،ترجمہ میرے سامنے ہے
غم نہ کرو افسردہ نہ ہو،تم ہی غالب رہوگے اگر تم مومن ہو
سبحان اللہ کتنا اطمینان ہے ان کلمات میں۔۔مجھے میری زندگی کا حاصل ان آیات میں مل گیا ہے زندگی اور موت میں کتنی سانسیں ہیں میرے رب کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔۔مجھے اگر فکر ہے تو اپنی تحریک اور کارکنان کی ہے
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان سب پر اپنا فضل وکرم قائم رکھے ﴿آمین﴾اللہ تعالیٰ پاکستان اور میرے بنگلہ دیش کے مسلمانوں پر آسانی فرمائے،دشمنان کی سازشوں کو ناکام بنا دے ﴿آمین﴾
مجھے عشائ کی نماز کی تیاری کرنی ہے ۔۔۔پھر شاید وقت نہ ملے؟
میری آپ سے گزارش ہے کہ ہم سب نے جس راستے کا انتخاب کیا ہے اس پر ڈٹے رہیں ۔۔۔میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ راستہ سیدھا جنت کی طرف جاتاہے ۔
 اس باہمت نوجوان نے پاکستان‘ نظریہ پاکستان اوراسلام کی حفاظت کا بیڑا اٹھایا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان سے محبت کی خاطر اپنی جان قربان کرنے والا 65 سالہ بوڑھا شخص آج پاکستانیوں کی نظر میں اجنبی ہے‘ خود پاکستانی
 میڈیا اسے جنگی جرائم کا مرتکب سمجھ رہا ہے۔ وہ شخص جو دین و وطن کی خاطر پھانسی کے پھندے پر جھول گیا اسے مجرم قرار دیا جا رہا ہے۔
حکومت پاکستان بھارت سے دوستی کی بات کرتی ہے جبکہ بھارت گن گن کے انتقام لے رہا ہے۔حکومت پاکستان کے لئے عبدالقادر ملا کی شہادت لمحہ فکریہ ہے۔
﴿نوید احمد زبیری﴾

Tuesday, 16 December 2014

میں نے دیکھا -- اجتماع عام

0 comments



ہزاروں کارکنان کی شب و روز محنت کا پھل اس دن دیکھنے کو ملا جب لاکھوں فرزندان اسلام توحید کا علم بلند کرنے والے عاشقان رسول ? جن میں بچے ، بوڑھے ، جوان ، باپردہ خواتین ، بڑی بڑی کمپنیوں کا مالک ، تاجر ، بزنس مین ، مزدور ، وکلائ، علمائ،طلبائ،صحافی حضرات ، وزراءاور کارکنان سبھی شامل تھے۔ ہر ایک کی زبان پر ایک ہی نعرہ تھا۔ اسلامی پاکستان…… خوشحال پاکستان۔ پاکستان کا مطلب کیا …… لا الہ الا للہ۔ نعرہ تکبیر … اللہ اکبر کہتے ہوئے مینار پاکستان کے اطراف میں نصب شدہ دروازوں سے داخل ہورہے تھے۔ انسانوں کے سمندر کو دیکھ کر اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ گویا خواب لگ رہا تھا۔ مینار پاکستان کا گراﺅنڈ اپنی وسعت کے باوجود تنگی داماں کی شکایت کررہا تھا۔ جس طرف دیکھتے ، جس طر ف نگاہ اٹھاتے انسان ہی انسان نظر آرہے تھے۔ امیر غریب بلا رنگ و نسل بغیر علاقائی و زبان کے تعصبات سے بالاتر ،گویا محمود ایاز ایک صف میں کھڑے نظر ا?رہے تھے۔ کسی کو کسی پر کوئی فوقیت حاصل نہ تھی۔ سبھی اپنا اپنا سامان اٹھائے ایک ہی چھت تلے جمع ہورہے تھے اور یہی خوبی جماعت کو تمام جماعتوں سے امتیاز دیتی ہے۔ اللہ اکبر کی صداﺅں سے فضا گونج رہی تھی۔ سارے انتظامات دھرے کے دھرے رہ گئے تھے۔ لیکن اس سب کے باوجود کارکنان جماعت اپنے آنے والے بھائیوں اور بہنوں کو خوش ا?مدید کہہ رہے تھے۔ تنگی کے باوجود ایک دوسرے کو جگہ دینا ، بڑوں اور بزرگوں کا احترام اپنا فرض عین سمجھ رہے تھے۔ اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہوئے مہاجرین اور انصار کی یاد تازہ کررہے تھے۔ 
جماعت اسلامی پاکستان کے سہ روزہ اجتماع عام کا آغاز شاہی مسجد میں اخوان المسلمین کے مرکزی رہنمائ اور شام کے ممتاز عالم دین الشیخ صدر الدین البیونی نے خطبہ جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دہشت گرد نہ کہا جائے ہم دنیا کو بچانے والے ہیں، اسلام اخوت و محبت اور انسانیت کی فلاح کا درس دیتا ہے،عالمی امن کو اسلام سے نہیں بلکہ اسلام کا راستہ روکنے کی کوششیں کرنے والے استعمار سے خطرہ ہے،آج دنیا میں محبت و الفت اور مساوات کے قیام کیلئے شریعت محمدی ? کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والی دنیا کی عظیم مملکت ہے جس کے قیام کیلئے برصغیر کے لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کی قربانی دیا۔انہوں نے کہا کہ آج فلسطین ،کشمیر برما،بنگلادیش،شام ،عراق سمیت ہر جگہ مسلمانوں ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔عالم اسلام کو متحد ہوکر مظلوم مسلمانوں کو کفر کے پنجہ استبداد سے بچانا ہوگا۔دنیا بھر کے مسلمانوںکا فرض ہے کہ وہ اپنے مظلوم مسلم بہن بھائیوں کے حق میں آواز بلند کریں اور اللہ سے استعانت طلب کریں۔اگر امت ایک بار پھرمتحد ہوکر اللہ اور اس کے رسول ? کی رسی کو تھام لے تو اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کمزوروں کو پھر قوت اور نصرت دے گا۔انہوں نے کہا کہ مسلمان کبھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتا اس لئے ہم بھی اس کی رحمت سے مایوس نہیں ،ہمیں یقین ہے۔
نماز کی ادائیگی کے بعد امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے اپنے عوامی ایجنڈے کااعلان کرتے ہوئے سودی نظام کے خلاف اعلان جنگ ، انگریزوں کی دی ہوئی جاگیرواپس لینے اور آئندہ انتخابات متناسب نمائندگی کی بنیاد پر کرانے کا مطالبہ کیا۔ جماعت اسلامی اقتدار میں آ کر عام آدمی کو وی آئی پی اور وی آئی پیز کو عام آدمی بنائے گی۔ انہوں نے امیر جماعت اسلامی اور خیبر پختونخوا کے سابق وزیر خزانہ کی حیثیت سے اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کیا اور کہاکہ وزیراعظم نوازشریف اور سابقہ وزائے اعظم بھی اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کریں۔ انہوں نے کہاکہ اسلامی اور خوشحال پاکستان کے تحت ہماری حکومت قائم ہوئی تو بے روزگاروں کو روزگار دیں گے اور جب تک حکومت روزگار نہ دے سکی انہیں بے روزگاری الاو?نس دے گی۔ مزدور کو کارخانوں کے منافع میں اور کسان اور ہاری کو زمین کی پیداوار میں حصہ دار بنائیں گے۔ تیس ہزار سے کم آمدنی والے شہریوں کو چاول ، آٹا چینی اور دالوں پر حکومت سب سڈی دے گی۔ تعلیم عام اور مفت کرکے یکساں نظام تعلیم نافذ کریں گے جبکہ پاکستان میں زریعہ تعلیم قومی زبان ہوگا۔انہوں نے کہاکہ اسلامی حکومت دل، گردہ، کینسر اور یرقان سمیت پانچ بیماریوں کا مفت علاج کرے گی ، اسلامی حکومت بزرگوں کو اولڈ ایج سوشل الاو?نس دے گی اور آئمہ مساجد کو سرکاری خزانے سے تنخواہیں دے گی۔اسلامی حکومت غیر مسلم پاکستانی برادری کو جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دے گی۔ملک میں موجود کرپشن سومنات ہمارے سوا کوئی نہیں توڑ سکتاہمارے سینکڑوں کارکنان قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے ممبران رہے لیکن کسی کے دامن پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں۔
دوسرے روز نائب ا میر جماعت اسلامی پاکستان حافظ محمد ادریس نے کہا ہے کہ سپر طاقت صرف اللہ ہے دوسری کوئی سپر طاقت نہیں ،مسلمانوں نے چودہ صدیوں میں کئی نام نہاد سپر طاقتوں کو اپنے پاو?ں تلے روندا ہے ،ہم نے اسلام دشمن قوموں کو بھی امن اور تحفظ دیا۔اسلام میں آمریت ،ملوکیت اور ڈکٹیٹر شپ نہیں ہے ،حضرت محمد ? اللہ نے ہمیشہ صحابہ کرام سے مشاورت کی۔ قائد اعظم ? کے بعد ملکی اقتدار پر قابض ہونے والے حکمران قومی قیادت کے اہل نہیں تھے جس کی وجہ سے ملک میں کرپشن ،لوٹ کھسوٹ اور اقربا پروری کے رجحان کو فروغ ملا۔ حکمرانوں کو رعایا پر چھت کا درجہ حاصل ہوتا ہے ،آج ملک کی چھت گندی ہے،جب تک چھت کی صفائی نہیں ہوتی صاف پانی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔حکمرانوں کے اہل و عیال ہر چیز پر اپنا حق جتاتے ہیں جبکہ عوام بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں انہوں نے کہا کہ اسلام اور خلفائے راشدہ نے امانت و دیانت کی وہ مثالیں قائم کیں حضرت عمر ? کے بنائے گئے قوانین کی آج تک مثالیں دی جاتی ہیں۔ آج ضرورت ہے کہ بدیانت ، نااہل اور عوام دشمن حکمرانوں کو اقتدار کے ایوانوں سے نکال کر وہاں دیانت دار اور عوام کے حقیقی نمائندوں کو بٹھایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ملک و ملت کو ایسی باکردار اور جرات مند قیادت صرف جماعت اسلامی دے سکتی 
منتظم اعلیٰ جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان محمود بشیر نے کہاکہ ہمارے نوجوانوں میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے۔ہمارے بچے دنیا بھر میں تعلیمی ریکارڈ قائم کررہے ہیں یورپ و ایشیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں کی پیشانیوں پر پاکستانی نوجوانوں کے نام جگمگا رہے ہیں۔پاکستان کی 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے یہ نوجوان ریت کو نچوڑ کر ملک کے لیے بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملکی سیاست میں سرمائے کے بل بوتے پر راج کرنے والے بتوں کو یہ نوجوان پاش پاش کر دیں گے۔
 جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ مینار پاکستان کے سائے میں عوام کا جم غفیر اس بات کی خوش خبری دے رہا ہے کہ آئندہ جب اکٹھے ہوں گے تو انشائ اللہ اسلامی اور خوشحال پاکستان وجود میں آچکا ہوگا۔ اسلامی پاکستان عوام کا مقدر ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ جماعت اسلامی پاکستان کے ملک گیر اجتماع عام کے دوسرے روز جماعت اسلامی کی گزشتہ آٹھ سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی آئین و قانون کی بالادستی اور ملک میں اسلامی فلاحی جمہوری نظام کے قیام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور پاکستان سے بیرونی مداخلت کا خاتمہ کرکے اسے اقوام عالم میں ممتاز مقام دلانے کے لیے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کرے گی انہوں نے کہا کہ پاکستان بھر میں جماعت اسلامی کی دعوت تیزی سے پھیل رہی ہے ،جماعت اسلامی کے کارکنان اور ارکان کی شبانہ روز محنت رنگ لا رہی ہے ، وہ دن دور نہیں جب اس دعوت کے نتیجے میں پاکستان میں اسلامی انقلاب برپا ہو گا۔
دوسرے روز عالمی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے اخوان المسلمون اردان کے سربراہ ڈاکٹر حمام سعید،اخوان المسلمون مصر کے رہنمائ ابراہیم منیر،ترکی کی سعادت پارٹی کے مصطفی کمال، مالدیپ کے وزیر مملکت برائے مذہبی امور محمد دیدی،سودان کے صدر عمر حسن البشیر کے خصوصی مشیر پروفیسر ڈاکٹر عبد الرحیم علی ،حماس کے نمائندہ خالد القدومی ، تیونس کے شیخ صادق الشروع،الجزائرکے عبد الرزاق مصری ،عراق کے محمد ریاض ،سعودی عرب ریاض سے پروفیسر ڈاکٹر خالد العظیمی ،حزب اسلامی افغانستان کے ترجمان انجینئر غیرت بہیر نے خطاب کیا۔ ان میں سے اکثر ان ممالک سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے استعمار سے لڑ کر آزادی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب کفر کی تاریکیاں چھٹیں گی اور اسلام کے غلبے کا سورج طلوع ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان رنگ و نسل کا نہیں بلکہ کلمہ کا رشتہ ہے۔آج عالم اسلام کے بہت سے ممالک پر استعمار کے ایجنٹ قابض ہیں جنہوں نے دشمن کی بجائے اسلامی تحریکوں سے جنگ چھیڑ رکھی ہے ،بنگلادیش اور مصر کی جیلیں ہمارے رہنماو?ں اور کارکنان سے بھری ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مصر ،بنگلا دیش ،کشمیر فلسطین ہمارے مشترکہ مسائل ہیں جن کے حل کیلئے ہمیں مشترکہ حکمت عملی اپنا نا ہوگی۔
حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی سامراجی طاقتیں امت مسلمہ پر ٹوٹ پڑی ہیں عراق ، افغانستان ، فلسطین ، کشمیر جدھر بھی دیکھتے ہیں امت مسلمہ کا لہوبہہ رہا ہے۔ بستیاں اور بازار تخت و تاراج ہیں ، مسجد و محراب ڈھائے جا رہے ہیں۔بھارت اور اسرائیل کا متحد ہو کر مقابلہ کرنا ہوگا۔بھارت اور اسرائیل نے جنگل کا قانون رائج کررکھا ہے ، اپنی طاقت سے ان زیادتیوں کا تدارک کرنا ہوگا، کشمیر بزور شمشیر آزاد ہوگا۔
ا میر جماعت اسلامی آزاد کشمیرنے کہا کہ مشرف نے کشمیر کے مسئلے پر ہمارے قومی موقف میں شگاف ڈالا تاہم اس کو ناکامی ہوئی۔ بھارت کی کوشش ہے کہ وہ کشمیریوں کو پاکستان کے کردار سے مایوس کرے انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت کے ساتھ معاہدے اور تجارت جس سے کشمیر کازکو متاثر نہ کیاجائے۔ ڈاکٹر وسیم اختر نے کہا کہ ملک کو اسلامی اور خوشحال بنانے کے لئے پنجاب ہراول دستے کا کردار ادا کرے گا۔ پنجاب میں مزدور کسانوں محنت کشوں کو اشرفیہ کی چکی نے پیس ڈالا ہے۔ جماعت اسلامی ان ظالموں سے نجات دلائے گی۔ ڈاکٹر منہاج الھدی نے کہا کہ سندھ کی اجرک اور ٹوپی کو مینار پاکستان تلے عظمت ملی ہے۔ آج مینار پاکستان تلے تمام مسالک کے لوگ کھڑے ہےں۔ سندھ میں آج تھرپارکر میں لوگ قحط اور بیماریوں سے مر رہے ہےں۔ یہ وہ دھرتی ہے جہاں جان محمد عباسی نے کام کیا۔ ہم ظلم کی زنجیروں کو توڑ کر دم لیںگے۔ فتح مصطفیٰ کے غلاموں کی ہوگی اور شکست امریکہ کے حواریوں کی ہوگی۔
پروفیسر ابراہےم نے کہا کہ آج کے پی کے کے عوام کو لاشوںکو تحفہ دیاجارہا ہے۔ میں فوجی حکام اور حکمرانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ آزاد کشمیر کو آزاد کرانے والے قبائلیوں پر ظلم بند کردیں۔ کے پی کے کے عوام کشمیر کو آزاد کر کے دم لیں گے۔ کشمیر کی آزادی کا راستہ جہاد کے علاوہ اور کوئی نہےں۔ کشمیر کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ حکمران اور جرنیل ہےں۔ جو دشمنوں کے ساتھ پینگیں بڑھاتے ہےں۔ آج پچیس سے تیس لاکھ افراد کے پی کے میں فوجی آپریشن کی وجہ سے بے گھر ہیں۔ فوجی آپریشن کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ ہمیں 1977کا فوجی آپریشن بھی یاد ہے جس کی وجہ سے ہم آدھا پاکستان گنوا چکے ہیں۔
عبدالمتین اخون زادہ نے کہا کہ بلوچستان بحران کا شکار ہے۔ پسماندگی غربت اور بیروزگاری نے بلوچستان کو بے حال کر دیا ہے۔ 24ہزار دیہاتوں میں سکولز نہےں۔ ۳۲ فیصدآبادی کو صاف پانی میسر نہےں۔ اکبر بگٹی جو وفاق کی سیاست کرتے تھے انہےں فوج اور بیوروکریسی نے قتل کر دیا۔ اگر خدانخواستہ بلوچستا ن ہاتھ سے نکل گیا تو مینار پاکستان کے سائے تلے ایک چھوٹا سا پاکستان رہ جائے گا۔
اختتامی تقریب میں وزیر اعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک، سپیکر کے پی کے اسد قیصر، نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر حاصل بزنجو، ڈاکٹر عبدالحی بلوچ، کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، غیر ملکی مندوبین سمیت مسیحی ، ہنداور سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی شرکت کی۔
جماعت اسلامی کے اجتماع میں سوڈان ،مصر ،تیونس ،شام ،انڈونیشیا ،ملائشیا،سری لنکا ،بھارت ،برطانیہ ،امریکہ ،اردن ،فلسطین سمیت 25ملکوں سے مندوبین کی بڑی تعداد شریک رہی۔ 
امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے سہ روزہ اجتماع کے آخری روز اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ اسلامی نظام اور اسلامی پاکستان کے لےے عوام اٹھ کھڑے ہوں۔ 25دسمبر کو مزار قائد پر اسلامی پاکستان کا روڈ میپ دوں گا۔ ناراض بلوچوں سے بات چیت کر کے انہےں واپس پاکستان لاو?ں گا۔ آپریشن کا ڈرامہ ختم کر کے آئی ڈی پیز کو فورا واپس گھروں کو بھیجاجائے۔ امریکہ پاکستان میں مداخلت بند کرے۔ بھارت نے اگر جارحیت کی تو بڑا ملک ہونے کے ناطے انہےں بڑا نقصان ہوگا۔ ہم امریکہ اور ورلڈ بینک کی مداخلت کو بھی مسترد کرتے ہیں، ا?کی زمین پر ا? کا نظام اور حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کو ماڈل ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ میں سیاستدانوں کے پاس جا کر اس بات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کروں گاکہ آئےے ہم مل کر اسلامی پاکستان اور عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام کے 
لےے مشترکہ جدوجہد کریں۔
نوید احمد زبیری