Friday, 13 February 2015

ویلنٹائن ڈے۔۔۔۔ایک غیر اسلامی تہوار !!!

0 comments
ویلنٹائن ڈے۔۔۔۔ایک غیر اسلامی تہوار!!!                             
نوید احمد زبیری
 اس دن کے بارے میں سب سے پہلی روایت روم میں عیسائیت سے قبل کے دور میں ملتی ہے جب روم کے بت پرست مشرکین 15فروری کو ایک جشن مناتے جو کہ Feast Of Lupercaoius کے نام سے جا نا جاتا ہے۔ یہ جشن وہ اپنے دیوی دیوتاو ¿ں کے اعزاز میں انہیں خوش کرنے کے لئے مناتے تھے۔ ان دیوتاو ¿ں میں Pan (فطرت کا دیوتا)، Februata Juno (عورتوں اور شادی کی دیوی)، اورPastoraigol Lupercalius (رومی دیوتا جسکے کئی دیویوں کے ساتھ عشق ومحبت کے تعلقات تھے ) شامل ہیں۔
اس موقع پر ایک برتن میں تمام نوجوان لڑ کیوں کے نام لکھ کر ڈالے جاتے ہیں جس میں سے تمام لڑ کے باری باری ایک پرچی اٹھاتے ہیں اور اس طرح لاٹری کے ذریعے منتخب ہونے والی لڑ کی اس لڑ کے کی ایک دن ایک سال یا تمام عمر کی ساتھی قرار پاتی۔یہ دونوں محبت کے اظہار کے طور پر آپس میں تحفے تحائف کا تبادلہ کرتے اور بعض اوقات شادی بھی کر لیتے تھے۔
ویلنٹائن ڈے اور اسلامی تعلیمات
۱۔  ہمیں ایسے تمام تہواروں سے اجتناب کرنا چاہیے جس کا تعلق کسی مشرکانہ یا کافرانہ رسم سے ہو۔ ہرقوم کا اپ۔نا ایک علیحدہ خوشی کا تہوار ہوتا ہے اور اسلام میں مسلمانوں کے خوشی کے تہوار واضح طور پر متعین ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے عید الفطر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ (اِنَّ لِک ±لِّ قَومٍ عِیداً وَہَذَا عِید ±نَا )”ہر قوم کی اپنی ایک عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔“
۲۔ ویلنٹائن ڈے منانے کامطلب مشرک رومی اور عیسائیوں کی مشابہت اختیار کرنا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : (مَن تَشَبَّہَ بِقَومٍ فَہ ±وَ مِنہ ±م ) 
”جوکسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہیں میں سے ہے۔“
۳۔موجودہ دور میں ویلنٹائن ڈے منانے کا مقصد ایمان اور کفر کی تمیز کئے بغیر تمام لوگوں کے درمیان محبت قائم کرنا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ کفار سے دلی محبت ممنوع ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”آپﷺ نہیں دیکھیں گے ان لوگوں کو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوں خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان کے لوگ ہی ہوں۔“
۴۔اس موقع پر نکاح کے بندھن سے قطع نظر ایک آزاد اور رومانوی قسم کی محبت کا اظہار کیا جاتا ہے جس میں لڑ کے لڑ کیوں کا آزادانہ ملاپ تحائف اور کارڈز کا تبادلہ اور غیر اخلاقی حرکات کا نتیجہ زنا اور بد اخلاقی کی صورت میں نکلتا ہے جو اس بات کا اظہار ہے کہ ہمیں مرد اور عورت کے درمیان آزادانہ تعلق پر کوئی اعتراض نہیں ہے اہل مغرب کی طرح ہمیں اپنی بیٹیوں سے عفت مطلوب نہیں اور اپنے نوجوانوں سے پاک دامنی درکار نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :”جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ اہل ایمان میں بے حیائی پھیلائی جا سکے ان کیلئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے “
۵۔نبی ا کرم ﷺ نے جو معاشرہ قائم فرمایا اس کی بنیاد حیا پر رکھی جس میں زنا کرنا ہی نہیں بلکہ اس کے اسباب پھیلانا بھی ایک جرم ہے مگر اب لگتا ہے کہ آپ ﷺ کے امتی حیا کے اس بھاری بوجھ کو زیادہ دیر تک اٹھانے کیلئے تیار نہیں بلکہ اب وہ حیا کے بجائے وہی کریں گے جو انکا دل چاہے گا۔
فرمان نبوی ﷺ ہے :۔”اِذَا لَم تَستَحیِ فَاصنَع مَا شِئتَ
”جب تم حیا نہ کرو تو جو تمہار ا جی چاہے کرو “ یعنی ایسے حالات میں ہمیں عفت و پاکدامنی کو ہاتھ سے چھوٹنے نہ دینا چاہئے اور اپنی تہذیب و تمدن ، ثقافت وروایات کو اپنا نا چاہیے۔اغیار کی اندھی تقلید سے باز رہنا چاہئے تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ رب العزت نے کائنات کو وجود دیا تو فرشتوں نے جن تحفظات کا اظہار کیا ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے غالب حکم یہ سنایا گیا کہ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے ایسے میں علمائ و محققین کی تمام تر تحقیق اس عنصر کو واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کا وجود فقط نبی کریم صلی عیلہ اللہ وآلہ وسلم کو دنیا میں مبعوث فرمانے کیلئے دیا جس کا عین ثبوت اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان عالیشان ہے کہ ”اگر دنیا میں اپنے محبوب پیغمبر صلی عیلہ اللہ وآلہ وسلم کو نہ بھیجنا ہوتا میں کائنات تخلیق نہ کرتا” ایسے میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ محبت ہی وہ بنیادی عنصر ہے کہ جو دنیا کی تخلیق و وجود کی بنیاد ہے اور سب سے بڑی محب ذات پیغمبر صلی عیلہ اللہ وآلہ وسلم کی ہے جن سے خود خدا نے محبت کا اظہار فرمایا ہے۔
دریں حالات محبت و الفت کے دیگر کلیدی مصدر اہلبیت اطہار اور صحابہ کرام علیہم رضوان کی ذات ہے جن سے والہانہ عقیدت و محبت انسان کیلئے دنیا و آخرت کی کامیابیوں کے حصول کی ضمانت ہے، بدقسمتی سے ہماری قوم پر بھیڑ چال والا محاورہ سو فیصد درست ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہاں کوئی بھی کام ہو اسے بغیر پرکھے اور بغیر کسی تصدیق کے فوراً نقل کرنا شروع کردیا جاتا ہے ، مثلاً کپڑوں کے نئے ڈیزائن کے ساتھ نیا فیشن ہویا کسی گلوکار کا کوئی مشہور گیت ہو اسے خود پر جنون کے ساتھ مسلط کرلیا جاتا ہے۔
اسی طرح غیر ملکی اور غیر اسلامی تہوارو ں کو بھی اپنا تہوار بنالیا جاتا ہے، اس وقت پاکستان میں مختلف ممالک کے زیر سایہ این جی اوز ااپنا کام کررہی ہیں اور یہ این جی او فقط پیسہ کمانے کے چکر میں بے ہودہ و لغو اور فضول تہواروں کے فروغ کیلئے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ جیسا کہ پاکستان میں ویلنٹائن ڈے نہایت تیزی سے ایک موذی وبا کی طرح پھیل رہا ہے اکثر پاکستانی لوگ تو ویلنٹائن ڈے کے تلفظ اور اسکے مطلب تک کو نہیں جانتے مگر دیکھا دیکھی اس تہوار پر ہر سال کروڑوں روپے ضائع کردیتے ہیں کیونکہ پاکستانی مادہ پرستی اور یورپ کی غلامی میں اس قدر گھہرچکے ہیں کہ پھولوں کے گلدستے لینے دینے کیلئے بے چین و بے قرار رہتے ہیں۔
ہمارا ملک پاکستان کھربوں ڈالر کا مقروض ہے لیکن اسلامی شعار کو پامال کرتے ہوئے گستاخانِ رسول کے تہوار منانے کیلئے کروڑوں روپے فضول خرچی میں اڑا دیتے ہیں کہ جیسے دنیا میں سب سے خوشحالی ملک پاکستان ہی ہے گویا ہم لوگ اس خوش فہمی میں بھی مبتلا ہیں کہ دیگر قوموں کے فضول تہوار منانا چھوڑ دیئے تو ترقی کی راہ میں پیچھے رہ جائیں گے ، ہمارے ہاں رائج ادب و ثقافت اور ٹی وی پر چلنے والے ڈراموں اور بھارتی فلموں میں پیش کئے جانے والے عشقیہ مناظر میں پوری نوجوا ن نسل کو مریض عشق بنا رکھا ہے۔
سکول و کالجز میں عشق کے چکر اور گھروں سے اپنے آشنا کے ساتھ بھاگنے والی لڑکیوں کے واقعات میںتیزی سے اضافہ اس کی دلیل ہے، بازارو ں اور مارکیٹوں میں عید کارڈز ، 14اگست اور جشن عید میلادالنبی صلی عیلہ اللہ وآلہ وسلم جیسے مذہبی اور قومی تہواروں کی طرح ہر اس امپورٹ شدہ تہوار یعنی ویلنٹائن ڈے کے کارڈوں کے اسٹالز بھی لگنے شروع ہو گئے ہیں جبکہ مٹھائی اور بیکری کی دکانوں پر ویلنٹائن ڈے کیس کی فروخت بھی رواج بن چکی ہے، اس مقابلے کی دوڑ میں اب زندہ دلان لاہور تو کیا زندہ دلانے پاکستان نظر آرہا ہے۔
گذشتہ سال ایک طالبہکے بیان سے مزید انکشاف ہوا کہ فلاں سکول میں تو ویلنٹائن ڈے کیلئے پیش کئے جانے والے ڈرامہ کی ریہرسل بھی کروائی جارہی ہے جبکہسکول ٹیچرز نے تو 14فروری کو پہننے کیلئے سرخ رنگ کے اسپیشل سوٹ بھی تیار کروائے ہےں۔
ہمارے لیے بحیثیت مسلمان یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ہم پرائیویٹ سکولز میں اپنے بچوں کو فقط اس لئے داخل کرواتے ہیں تاکہ یہاں سرکاری سکولز کی نسبت بہتر پڑھائی اور تربیت ہو گی مگر جہاں ٹیچرز ہی ویلنائن ڈے کے ڈراموں کی ہیروئن بن رہی ہوں وہاںکچے ذہنوں کے طلباءکا کیا بنے گا، بلاشبہ ایسے کلچر کے فرو غ سے نہایت منفی رجحانات پروان چڑھیں گے اور وہ بے راہ روی کا شکار ہو جائیں گے، جس سے ہمارے معاشرہ میں مزید بگاڑ پیدا ہو گا، 
موجودہ صورت حال اور ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے راقم کا کہنا یہ ہے کہ
قارئین! کہنے کو توبہت ساری باتیں اور گزشتہ کئی برسوں سے ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے بہت کچھ لکھا اور کہا گیا مگر نہ تو اس سے نوجوانوں نے بے راہ روی ترک کی اور نہ ہی کسی طرح اس سلسلہ کی روک کا کوئی عنصر سامنے آیا جس کی حقیقی ذمہ داری فقط انتظامی اداروں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو بھی ویلنٹائن ڈے جیسے تہوار سے نئی نسل کو دور رکھنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔



0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔