آہ .... عبد الحفیظ احمدصاحب .....................................نوید احمد زبیری
عبد الحفیظ احمد مرحوم ناصرف ایک مربی،مشفق اور ہر دل عزیز
شخصیت تھے بلکہ وہ ہر عمر کے انسان کے ہمدرد اور خیر خواہ بھی تھے اور سب سے بڑھ کر
وہ تحریک کاقیمتی سرمایہ تھے.
چہرے
پر مسکراہٹ ، گول مول نورانی چہرہ، انتہائی شفیق اور ہر دلعزیز شخصیت عبد الحفیظ احمد
مرحوم سے جب میری پہلی بار ملاقات ہوئی تو میں حیران سارہ گیا کیونکہ اسلامک پبلی کیشنز
اور البدر پبلی کیشنز کے روح رواں جناب عبد الحفیظ مرحوم کے بارے میں میرا تاثر تھا
کہ اتنے بڑے آدمی سے ملنا خواب ہی ہو سکتا ہے ۔ ان سے ملاقات ممکن نہیں مگر جب ایک
دفعہ مجھے اسلامک پبلی کیشنز کی طبع شدہ ایک کتاب کا کچھ حصہ ایک تحقیقی کام کے لیے
ضرورت تھا تو دوستوں نے مشورہ دیا کہ آپ عبد الحفیظ صاحب سے بات کریں وہ آپ کو کمپوزشدہ
مواد دے دیں گے آپ کو کمپوزنگ اور پروف ریڈنگ کی ضرورت نہ رہے گی اس مقصد کی غرض سے
میں منصورہ میں واقع اسلامک پبلی کیشنز پہنچا تو وہ چہرے پر مسکراہٹ لینے خوبصورت اور
نورانی چہرہ لیے سامنے کھڑے نظر آئے۔ بڑی گرم جوشی سے ملے اور حال واحوال پوچھا، جب
میں نے اپنی آمد کا مقصد بیان کیا تو میرا سوال سن کر وہ مسکرانے لگے ۔ میرے سوال پر
ان کا مسکرانا مجھے پریشان سا کرنے لگا کہ شاید وہ نہیں مانیں گے کیونکہ کوئی بھی ادارہ
اپنی کتب کی اشاعت کے بعد اب کا کوئی حصہ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا،بہر حال وہ مجھے
بازور سے پکڑ کر اسلامک پبلکیشنز میں واقع اپنے دفتر میں لے گئے اور کہنے لگے کہ یہاں
بیٹھیں ، چائے پیئیں ۔ دوران ملاقات انہوں نے جس اپنائیت اور محبت سے تعارف کیا اور
مختلف تعلیمی اور تنظیمی مصروفیات کے حوالے سے سوالات و جوابات کیے۔اس اپنائیت اور
محؓت نے پہلی ہی ملاقات میں ان کے اخلاق اور مسکراہٹ نے مجھے اپنا گروید ہ بنا لیااور
اس طرح گپ شپ کرتے رہے جیسے ہم بچپن کے دوست ہوں۔ چائے پینے کے بعد میں نے ان سے کہا
کہ مجھے جلدی ہے۔ اگر میرا کام لیٹ ہے تو آپ مجھے اپنا موبائل نمبر دے دیں۔ میں فون
کرکے کسی ٹائم آپ سے ملنے آجاﺅں
گا۔ میری یہ بات سن کر وہ اپنی مخصوص مسکراہٹ میں ہنسنے لگے اور کہنے لگے اگر وہ کام
ابھی کر دوں تو آپ کا تاثر کیا ہوگا ۔ یہ سن کر میرے دل میں شکر کے جذبات ابھرنے لگے
۔ میں ان کے اس اخلاق سے بہت متاثر ہوا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان سے بے تکلفی بڑھتی
چلی گئی ۔ وہ عمر میں بہت تفاوت رکھتے تھے لیکن ان کا ملنا اور گفتگو کرنا اس تفاوت
کو ختم کر دیتا تھا۔
جب میری ذمہ داری شعبہ فہم دین جماعت اسلامی پنجاب میں لگی تو ایک
دن میرے پاس تشریف لائے اور مختلف امور پر بات چیت کرتے رہے اور کہنے لگے کہ میں کبھی
کبھار سوچتا ہوں کہ ہمارے پاس مفکر اسلام سید مودودیؒ اور ان جیسے دیگر عظیم مصنفیں
کی کتب موجود ہیں اور منصورہ کے اندر مختلف تربیت گاہیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ اگر اس
ماحول میں بھی ہم نے اپنے آپ کو بدلا اور اللہ کا قرب حاصل نہ کیا تو میں یہ سمجھتا
ہوں کہ ہم دوسرے لوگوں کی بہ نسبت دوہرے مجرم ہوںگے۔ اور مزید کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ
ہم لوگ چند نمازیں پڑھنے کے بعد ، چند روزے رکھنے کے بعد اور تھوڑا سا دعوتی کام کرنے
کے بعد ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے دینی اور تحریکی کام کو مکمل کرکے اپنی ذمہ داری
ادا کرلی ہے ، حالانکہ یہ عمل موت تک مسلسل جاری رہنا چاہےے۔گویا ان کے ذہن میں آخرت
کے دن جواب دہی کا احساس ہر وقت تازہ رہتا تھا ۔اسی لیے وہ کہتے بھی تھے کہ میں صرف
کتابیں بیچنے کا کام نہیں کرتا ہوں بلکہ میرا مقصد صرف اور صرف کتاب کے ذریعے قاری
کی ذہنی تربیت کرنا ہوتی ہے تاکہ وہ دنیا میں رہتے ہوئے ایک اچھے مسلمان کی حثیت سے
زندگی گزارے اور آخرت میں بھی سرخرو ہو سکے۔ وہ نماز عصر کے بعدہفتے میں ، 3,4روزجماعت
اسلامی پنجاب کے دفتر تشریف لاتے تھے اور مختلف امور پر اپنی بے لاگ اورجچی تلی رائے
کا اظہار کرتے تھے اور اس میں کسی بھی قسم کے لیت و لعل سے کام نہیں لیتے تھے گویا
صاف گوئی ان کا وطیرہ تھا۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ وہ اپنی زندگی کے آخری روز وہ
حسب معمول عصر کے بعد صوبہ پنجاب کے دفتر تشریف لائے تو میں وہاں موجود نہیں تھا، کچھ
دیر بعد جب میں دفتر پہنچا تو وہ صوبائی دفتر کے دروازے پر کھڑے نظر آئے اور کہنے لگے
کہ میں آپ کی غیر حاضری لگا کر جارہا تھا، میں نے عرض کی اکہ مسجد میں کچھ دوست مل
گئے تھے جس کی وجہ سے تاخیر ہو گئی جس پر میں معذرت چاہتا ہوں ،میری بات سن کر وہ مسکرانے
لگے اور کہنے لگے کوئی بات نہیں تاخیر ہو جاتی ہے ۔ بہر حال ہم بیٹھے اور مختلف امور
پر بات چیت ہوتی رہی ، کچھ دیر بعد کہنے لگے کہ میں نے ابھی کامران بلاک جانا ہے ،
وہاں جماعت کا کوئی پروگرام ہے مجھے کوئی ساتھی موٹر سائیکل پر وہاں چھوڑ آئے ، پھر
خود ہی کہنے لگے کہ شرقی گیٹ سے موٹر سائیکل نہیں گزر سکتا ہے اور ملتان چونگی کی طرف
سے زیادہ وقت لگے گا لہٰذا میں پیدل ہی چلا جاتاہوں، جاتے وقت کل عصر کے بعد دوبارہ
آنے کا وعدہ کرکے چلے گئے۔ لیکن شاید کسی کو بھی یہ معلوم نہ تھا کہ وہ اب دوبارہ واپس
کبھی نہیں یںگے۔











بہت خوب