بنگلہ دیشی نام نہاد عدلیہ اور حکومت نے 71ئ کی جنگ میں پاکستانی فوج کے ہمراہ انڈین فوج اور مکتی باہنی کے خلاف جدوجہد کرنے کے جرم کی پاداش میں عبد القادر ملاکو پھانسی دے دی ۔رائ کی ایجنٹ یہ حکومت 2009ئ میں جب برسر اقتدا رآئی تو اس بے لگام ہاتھی نے اسلامی تنظیموں پر ظلم وستم کے پہاڑ دیے ،ظلم وزیادتی کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیااور مزید ہمارے ازلی دشمن نے جماعت پر یہ الزم لگایا کہ جماعت کے ساتھ محبت رکھنے والوں میں 25فیصد لوگ بھار ت مخالف نظریات رکھتے ہیں اور یہ لوگ آئی ایس آئی کے ساتھ مل ہوئے ہیں لیکن زمینی حقائق اس بات پر گواہ ہیں حسینہ واجد اور تمام خفیہ ایجنسیاں اسلام پسند قوتوں کے خلاف دن رات کوشاں ہیں اس تسلسل کی کڑی عبد القادرملا کی پھانسی ہے اور بھاتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے اس بیان کے بعد جماعت اسلامی سمیت تمام دینی شخصیات اس نام نہاد حکومت کے زیر عتاب ہیں
عبد القاد ر ملا سے میں کبھی بھی اپنی زندگی میں نہ ملا ہوں اور نہ ہی کبھی ان کو براہ راست دیکھا ہے لیکن ان کا نام اور ان کی عظیم جدوجہد کو جب دیکھتا ہوں تو میری آنکھوں سے بے اختیار آنسوں جھلک پڑتے ہیںجو دین کی خاطر اور میرے وطن کی خاطر اپنی جان قربان کر گیا۔
عبد القادر ملا کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے پاکستان سے محبت اور وفا کی ،1971ئ میں پاکستان کی سالمیت اور یکجہتی کے لیے کوشش کیں اور ہر قسم کی تکلیفیں اٹھائیں۔
اس خدمت کا بدلہ انہیں سولی پرلٹکا دیا گیا ،نام نہاد عدالت اور اس کے پشت پناہی کرنے والی حسینہ واجد یہ بھول گئی ہے کہ یہ تو حضرت مصعب کی سنت تازہ ہو گئی ہے وہ یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ اسلام دب گیا یہ اس کی کم عقلی اور اسلام دشمن سوچ ہے یہ خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ اس خون سے ناصرف بنگلہ دیش میں اسلام انقلاب آئے گا بلکہ دنیا بھر میں اسلام کے نفاذ کے لیے راستہ ہموار ہو گا۔
حیرت یہ ہے کہ عبد القادر شہید نے جس ملک کی خاطر پھانسی کے پھندے پر جھول گیا اس ملک کے حکمران کہتے ہیں کہ یہ بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ ہیں ،اس ملک کے اندر ملالہ اور سوات کے اندر بننے والی جعلی کوڑوں کی فلم پر پوری دنیا میں انسانی حقوق کی آڑ میں ہلچل مچا دینے والوں کو آج اس کو سانپ سونگ گیا؟،ٹی وی چینلز اور ٹاک شو ز پر بیٹھ کر تبصر کرنے والوں کی زبان کو آج تالا لگ گیا ؟،انسانی حقوق کی علبردار تنظیمیں آج منہ چھپا رہی ہیں ،اعلی ٰافواج کے سربراہان اور لفظ شہید پر اپنی ملکیت ثابت کرنے والے آج کس کو شہید کہیں گے ایک وہ جو پاک فوج کا ساتھ دینے کے جرم میں جان قربان کر گیا دوسرے وہ 90ہزار کی تعداد میں ہتھیار پھینک آئے ،پاکستان کے سیاست دان جو بھٹو کو تو عدالتی قتل قرار دیتے ہیں مگر آج وہ کس مصلحت کو اختیار کیے ہوئے ہیں؟
مولانا عبدالقادر ملا پر الزام یہ لگایا گیا کہ البدر کا حصہ ہوتے ہوئے‘ جن کی عمر اس وقت 21 سال تھی‘ انہوں نے بنگالیوں پر ظلم کیا‘ انہیں قتل کیا اور خواتین کی بے حرمتی کی۔ ان الزامات کی بنیاد پر انہیں اور دوسرے جماعت اسلامی کے اہم قائدین کو اس عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جسے کینگرو کورٹ کا نام دیا جائے تو کوئی اچنبھے کی بات نہ ہوگی۔اس کینگرو کورٹ کو جنگی جرائم کے خلاف انٹرنیشنل ٹرائل کورٹ کا نام دیا گیا جبکہ اس عدالت میں تینوں جج بنگالی تھے اور جس طرح شہادتیں پیش کی گئیں اور کئی سالوں تک استغاثہ ہی کے ہاتھوں ’’جنگی مجرموں‘‘ کے خلاف کاروائی ہوتی رہی اور پھانسی کی سزائیں دی گئیں۔ اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف حکومت پاکستان نے احتجاج کو در کنار بلکہ ہلکا سا بھی اعتراض کا ایک لفظ بھی نہ بولا‘ بلکہ یہ کہہ کر زبان کو تالا لگا لیا کہ ’’یہ بنگلہ دیش کا اندرونی مسئلہ ہے۔‘‘
یہ بنگالیوںکا اندرونی معاملہ نہیں ہے بلکہ نظریہ پاکستان کے تقدس اور عزت کا معاملہ ہے۔ پاکستان کی سلامتی کا معاملہ ہے۔ اسلئے کہ ہمارا مشرقی پاکستان کا علاقہ کہ جہاں مسلم لیگ ایک جماعت کی حیثیت سے معرض وجود میں آئی تھی اور جہاں کے مسلمانوں نے یک زبان ہو کر پاکستان کے حق میں ووٹ دیا‘ آج ہم ان سے اس قدر بیگانہ ہو چکے ہیں کہ ہم اپنے ہم وطنوں کی ان قربانیوں کو بھی بھلا بیٹھے ہیں کہ جنہوں نے ہماری فوج کے ساتھ مل کر ملک کی بقا کی جنگ لڑی‘ قربانیاں دیں ‘ جس طرح ہماری فوجی جوان اور آفیسر اس جنگ میں شہید ہوئے اور ان میں اکثر وہاں گمنام قبروں میں دفن ہیں۔ ہماری حکومت نے ان کے جسد خاکی کو پاکستان لانے کی ایک موہوم سی کوشش بھی نہیں کی جبکہ ویتنام کی جنگ ختم ہونے کے نصف صدی گزرنے کے بعد بھی امریکہ اپنے گمنام سپاہیوں کو تلاش کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اس لئے کہ اس قوم کو حب الوطنی کے معنی معلوم ہیں۔
تاریخ نے ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرایا ہے کہ جس طرح امام حسن البنائ شہید(رح) کی شہادت کے موقع پر رات کی تاریکی میں دفن کردیا گیا با الکل اسی طرح شہید ملاعبدالقادر (رح)کو رات کی تاریکی میں فوج کے سخت پہرے میں ان کی میت کو ان کے آبائی گائوں لے جایا گیاچند افراد کی موجودگی میںجنازہ پڑھا کر دفن کر دیا گیاخاندان والوںا ور اہل علاقہ کو بھی جنازے میںشرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔
پرویز مشرف کو جب ان کی والدہ سے ملنے پر پابندی لگائی گئی تو ان کے معروف وکیل اور دیگر انسانی حقوق کے چیمپین تنظیموں نے خوب واویلا کیا مگر عبد القادر ملا کے گھر والوں کو جب جنازے سے روکا گیا تواس وقت انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا دی گئیںمگر یہ سب کس غار میں تھے ؟
ملاعبد القادر شہید کا ایمان افروز خط جو کہ حق کے راستے پر چلنے والوں کو زاد ہ راہ مہیا کرتا ہے ۔
مجھے نئے کپڑے فراہم کر دیے گئے ہیں نہانے کا پانی بالٹی میں موجود ہے ۔سپاہی کا آرڈر ہے کہ جلد ازجلد غسل کر لوں کال کوٹھری میں بہت زیاد ہ آنا جانا لگا ہوا ہے ہر سپاہی جھانک کر جارہا ہے کچھ کے چہرے افسردہ اور کچھ چہروں پر خوشی نمایاں ہے ان کا بار بار آنا میری تلاوت میں خلل ڈال رہا ہے میرے سامنے سید مودوی کی تفہیم القرآن موجود ہے ،ترجمہ میرے سامنے ہے
غم نہ کرو افسردہ نہ ہو،تم ہی غالب رہوگے اگر تم مومن ہو
سبحان اللہ کتنا اطمینان ہے ان کلمات میں۔۔مجھے میری زندگی کا حاصل ان آیات میں مل گیا ہے زندگی اور موت میں کتنی سانسیں ہیں میرے رب کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔۔مجھے اگر فکر ہے تو اپنی تحریک اور کارکنان کی ہے
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان سب پر اپنا فضل وکرم قائم رکھے ﴿آمین﴾اللہ تعالیٰ پاکستان اور میرے بنگلہ دیش کے مسلمانوں پر آسانی فرمائے،دشمنان کی سازشوں کو ناکام بنا دے ﴿آمین﴾
مجھے عشائ کی نماز کی تیاری کرنی ہے ۔۔۔پھر شاید وقت نہ ملے؟
میری آپ سے گزارش ہے کہ ہم سب نے جس راستے کا انتخاب کیا ہے اس پر ڈٹے رہیں ۔۔۔میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ راستہ سیدھا جنت کی طرف جاتاہے ۔
اس باہمت نوجوان نے پاکستان‘ نظریہ پاکستان اوراسلام کی حفاظت کا بیڑا اٹھایا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان سے محبت کی خاطر اپنی جان قربان کرنے والا 65 سالہ بوڑھا شخص آج پاکستانیوں کی نظر میں اجنبی ہے‘ خود پاکستانی
میڈیا اسے جنگی جرائم کا مرتکب سمجھ رہا ہے۔ وہ شخص جو دین و وطن کی خاطر پھانسی کے پھندے پر جھول گیا اسے مجرم قرار دیا جا رہا ہے۔
حکومت پاکستان بھارت سے دوستی کی بات کرتی ہے جبکہ بھارت گن گن کے انتقام لے رہا ہے۔حکومت پاکستان کے لئے عبدالقادر ملا کی شہادت لمحہ فکریہ ہے۔
﴿نوید احمد زبیری﴾











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔