Tuesday, 10 February 2015

5فروری.... جماعت اسلامی کی تاریخی جدوجہد

0 comments
5فروری.... جماعت اسلامی کی تاریخی جدوجہد                                       نوید احمد زبیری

کشمیر کو جنت نظیر کہا جاتا ہے اورحقیقت بھی یہی ہے کہ کشمیر کے جس حصے کو جس نظر سے بھی دیکھا جائے تو انسان اس کے سحر میں کھوجاتاہے ۔ مگر گزشتہ 67سالوں یہ جنت نظیر ٹکڑا بھارت کے غاصبانہ قبضے اورریا ستی دہشت گردی کی وجہ سے بہت ہی نا مساعد حالات کاشکار ہے ۔ اگر کبھی پاکستان کے حکمران اس مسلئے کو حل کرنے کی رسمی سی کو شش کرتی ہے توبھارتی ہٹ دھری ہمیشہ آڑ ے آتی ہے کبھی معاہد پورا نہیں کیا جاتا ہے تو کبھی مذاکرات اتنے طویل کردیے جاتے ہیں کہ وہ بات چیت صر ف مذاکرات کی میز پر دھرے کا غذ کی طرح رہ جاتی ہے اورآج تک اس اہم مسئلے کاحل نہیں ہوسکا ہے بلکہ آئے دن کشمیر کے اند ر بھارتی دہشت گردی کی وجہ سے ہزاروں نوجوان اپنی دھرتی کی خاطر شہید کیے جارہے ہیں بوڑھوں کوبھی اس اذیت ناک مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے ۔اوربھارتی ریا ستی غنڈہ گردی کی حد تویہ ہے کہ ہماری مائیں ، بہنیں، اوربیٹیاں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ اوربچوں کو جس طرح ختم کیا جا رہا ہے ا س کا اندازہ بھی رپورٹس سے لگا یا جا سکتا ہے ۔ اورصرف یہی نہیں بلکہ معاشی طور پر کشمیر کی کمر توڑ جارہی ہے ۔ 
 کئی برس قبل جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں پا کستان اوربھارت کے درمیان کشمیر کنڑول لائن پر جاری جنگ بند ی کا معاہد ہ طے پا گیا تھا جس کے تحت دونوں اطراف کے فوجیوں کو پا بند کردیا گیاکہ کس قسم کی جارحیت سے مکمل اجتناب کیا جائے گا مگر کچھ عرصے کے بعد بھارت کو اچانک کیا سوجھی کہ اس نے آزاد کشمیر کے ہجزہ سیکٹر میں گولہ باری شروع کردی ، جس سے پور بٹل اورھزا کے دیہات پوری طرح متاثر ہوئے ۔ مگر بھارت کوئی بھی بارڈر ہو ہمیشہ جارحیت کے ارتکاب کرنے کے بعد بہانایہ بناتا ہے کہ پا کستان کی طرف سے دراندازی ہوتی ہے مگر یہ سفید جھوٹ ہے ۔
 گزشتہ کئی برسوں سے پا کستان اوربھارت کے تعلقات کی بہتری کے لیے بھرپور کو شش کی جارہی ہیں اوراس کے لیے امن کی آشا کے نام سے بھرپور مہم چلائی گئی ہے اوراس کےلیے تجارتی روبط بڑھائے جارہے ہیں ۔ پاکستان نے تو بے غیرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہوئے بھارت کوپسند یدہ ملک بھی قرار دیا ہے۔ مگر اس کے باوجود نہ تو بھارت نے گولہ باری روکی ہے بلکہ اب تو پا کستان کے دیگر بارڈر ز شکرگڑھ وغیر ہ پر فائرنگ کرکے کئی پاکستانی شہریوں کو شہید کردیا ہے جس میں خواتیں اوربچے بھی شامل ہیں ۔ 
 اس سے بڑھ کر بھارت کی بزدلی اورغدار ی کیا ہوگی کہ پا کستان کے دو رینجر کے جوانوں کو فلیگ میٹنگ کے بہانے بلواکر نہیں شہید کر دیا اور رات کے اندھیرے تک ان کے جسموں کو بھی اٹھانے نہیں دیا گیا بھارتی فوجی مسلسل فائرنگ کرتے رہے۔ مگر ہمارے حکمران صرف اس جواب پر اکتفاکرتے ہیں ہم بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ 
کشمیر ی قوم 0 197سے اب تک سے پا کستان اوربھارت کے درمیان ایک معلق کی حیثیت سے زندگی بسرکررہی ہے ۔ تقسیم کار ہونے کے مطابق کشمیر کو پا کستان کا حصہ ہونا چاہیے تھا مگر بھارت نے برطانوی سامراج سے ساز باز کرکے کشمیر کو اپنے ساتھ شامل کرلیا ۔ 
کشمیر ی قوم نے اس پر خوب احتجاج کیا ہے کہ اگر بھارت تقسیم کا فارمولا نہیں مانتا تو کم از کم کشمیری قوم کو خود اپنے حصے کا حق دیا جائے ۔ 
 اقوام متحدہ کے چاٹر اوردنیا کے تمام اخلاقی ضوابط کے عین مطا بق کشمیریوں کو حق خود ارادیت ملنا چاہیے تھا لیکن بھارت اپنی ضد پر اڑ گیا اورتب سے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا چلا آرہا ہے ۔پا کستان اس مسئلے کو مذاکرات کی میز پر حل کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر بھارت مذکرات کی میز پر آنے کی بات کرنے کے لیے تیارہی نہیں ہوتا ہے ۔
 کشمیر پا کستان کی شہ رگ ہے ۔ اس حقیقت کو تسلیم کرلینے کے بعد پا کستا ن کو اس اہم مسئلے کا فوری حل کرنا چاہیے تھا مگر67سال گزر جانے کے باوجود پاکستان کے حکمران نجانے کیو ں اس مسئلے پر زبان کو تالا لگائے بیٹھے ہیں ۔ 
 کشمیر یوں کی اخلاقی اورعملی جس قدر مدد جماعت اسلامی نے کی ہے اس سے کوئی بھی صاحب عقل انسان آنکھیں پھر بند نہیں کر سکتا ہے ۔اورنہ ہی کشمیر یوں کے لیے کی جانے والی جماعت کی کو ششوں کو پس پشت ڈال سکتا ہے ۔ہرسال 5 فروری کے موقع پر ہر ملک کی مختلف نتظیمیں، این ۔جی اوز اورمذہبی جماعتوںکے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کشمیر یوں بھائیوں کے لیے ملک کے شہر شہر میں ایک نئے جذبے کے ساتھ سڑکوں پر نکل آتی ہیںیوں ایک طرح تو اپنی وابستگی کا اظہارکیاجاتا ہے تو دوسری اپنے کشمیر ی بھائیوں کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ اہل پا کستان اورکشمیری یک جان اوردوقالب ہیں ۔
جماعت اسلامی پاکستان کے اس وقت کے امیر جماعت اسلامی پا کستان قاضی حسین احمد مرحوم کی اپیل پر5فروری 1990کی وہ مبارک گھڑی تھی جب اس وقت کی وزیرا عظم محترم بے نظیر بھٹو مرحومہ اوراسلامی جمہوریہ پا کستان کے قائد اختلاف میاں نواز شریف نے پوری قوم کے ساتھ ہا تھوں میں ہاتھ ڈال کر اعلان کیا تھا کہ کشمیر یوں تم ہمارے ہو اورپا کستان تمھارا ہے ۔اب میاں نواز شریف خود میاں نواز شریف پاکستان کے وزیر اعظم ہیں اور ہر قسم کے اختیارات کے ملک بھی ہیںان کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ کشمیراس اہم مسلئے کو فوری حل کریں،یہ ان کا اخلاقی ،دستوری فرض بھی ہے اور پاکستانی قوم بھی مسلسل اس حوالے سے بے چین ہے۔
آج ایک طرف بھارتی  جبرواستبداد وقتل وغارت گری میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ہزاروں شہید کی گمنا م قبریں دریافت ہو رہی ہیں اس قتل وغارت میںجوملوث پا نچ سو فوجی اورسول آفیسر ز کی نشان دہی پر بھی انسانی حقوق کا تعین کر چکا ہے جن پر مقدمات چلانے کی سفارش کی گئی ہے ۔ اورخود بھارت کے اہل ودانش اورانسانی حقوق کی تنظیمیںبھارتی ریاستی دہشت گردی پر سراپا احتجاج ہیں۔
 ان حالات میں حکومت پا کستان اورپا رلیمنٹ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حق خود ارادیت کے بنیادی نکتہ پر قومی اتفاق رائے کا اعادہ کرے اورحکومت پا کستان کشمیر یوں واضح حمایت کا اعلان کریں اوربھارت پر واضح کیا جائے کہ کشمیر میں بھارتی مظالم اورباہم دوستی ایک ساتھ نہیں چل سکتے ہیں۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔