Wednesday, 17 June 2015

آہ .... عبد الحفیظ احمدصاحب

1 comments


آہ .... عبد الحفیظ احمدصاحب .....................................نوید احمد زبیری
عبد الحفیظ احمد مرحوم ناصرف ایک مربی،مشفق اور ہر دل عزیز شخصیت تھے بلکہ وہ ہر عمر کے انسان کے ہمدرد اور خیر خواہ بھی تھے اور سب سے بڑھ کر وہ تحریک کاقیمتی سرمایہ تھے.
            چہرے پر مسکراہٹ ، گول مول نورانی چہرہ، انتہائی شفیق اور ہر دلعزیز شخصیت عبد الحفیظ احمد مرحوم سے جب میری پہلی بار ملاقات ہوئی تو میں حیران سارہ گیا کیونکہ اسلامک پبلی کیشنز اور البدر پبلی کیشنز کے روح رواں جناب عبد الحفیظ مرحوم کے بارے میں میرا تاثر تھا کہ اتنے بڑے آدمی سے ملنا خواب ہی ہو سکتا ہے ۔ ان سے ملاقات ممکن نہیں مگر جب ایک دفعہ مجھے اسلامک پبلی کیشنز کی طبع شدہ ایک کتاب کا کچھ حصہ ایک تحقیقی کام کے لیے ضرورت تھا تو دوستوں نے مشورہ دیا کہ آپ عبد الحفیظ صاحب سے بات کریں وہ آپ کو کمپوزشدہ مواد دے دیں گے آپ کو کمپوزنگ اور پروف ریڈنگ کی ضرورت نہ رہے گی اس مقصد کی غرض سے میں منصورہ میں واقع اسلامک پبلی کیشنز پہنچا تو وہ چہرے پر مسکراہٹ لینے خوبصورت اور نورانی چہرہ لیے سامنے کھڑے نظر آئے۔ بڑی گرم جوشی سے ملے اور حال واحوال پوچھا، جب میں نے اپنی آمد کا مقصد بیان کیا تو میرا سوال سن کر وہ مسکرانے لگے ۔ میرے سوال پر ان کا مسکرانا مجھے پریشان سا کرنے لگا کہ شاید وہ نہیں مانیں گے کیونکہ کوئی بھی ادارہ اپنی کتب کی اشاعت کے بعد اب کا کوئی حصہ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا،بہر حال وہ مجھے بازور سے پکڑ کر اسلامک پبلکیشنز میں واقع اپنے دفتر میں لے گئے اور کہنے لگے کہ یہاں بیٹھیں ، چائے پیئیں ۔ دوران ملاقات انہوں نے جس اپنائیت اور محبت سے تعارف کیا اور مختلف تعلیمی اور تنظیمی مصروفیات کے حوالے سے سوالات و جوابات کیے۔اس اپنائیت اور محؓت نے پہلی ہی ملاقات میں ان کے اخلاق اور مسکراہٹ نے مجھے اپنا گروید ہ بنا لیااور اس طرح گپ شپ کرتے رہے جیسے ہم بچپن کے دوست ہوں۔ چائے پینے کے بعد میں نے ان سے کہا کہ مجھے جلدی ہے۔ اگر میرا کام لیٹ ہے تو آپ مجھے اپنا موبائل نمبر دے دیں۔ میں فون کرکے کسی ٹائم آپ سے ملنے آجاں گا۔ میری یہ بات سن کر وہ اپنی مخصوص مسکراہٹ میں ہنسنے لگے اور کہنے لگے اگر وہ کام ابھی کر دوں تو آپ کا تاثر کیا ہوگا ۔ یہ سن کر میرے دل میں شکر کے جذبات ابھرنے لگے ۔ میں ان کے اس اخلاق سے بہت متاثر ہوا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان سے بے تکلفی بڑھتی چلی گئی ۔ وہ عمر میں بہت تفاوت رکھتے تھے لیکن ان کا ملنا اور گفتگو کرنا اس تفاوت کو ختم کر دیتا تھا۔
            جب میری ذمہ داری شعبہ فہم دین جماعت اسلامی پنجاب میں لگی تو ایک دن میرے پاس تشریف لائے اور مختلف امور پر بات چیت کرتے رہے اور کہنے لگے کہ میں کبھی کبھار سوچتا ہوں کہ ہمارے پاس مفکر اسلام سید مودودیؒ اور ان جیسے دیگر عظیم مصنفیں کی کتب موجود ہیں اور منصورہ کے اندر مختلف تربیت گاہیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ اگر اس ماحول میں بھی ہم نے اپنے آپ کو بدلا اور اللہ کا قرب حاصل نہ کیا تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہم دوسرے لوگوں کی بہ نسبت دوہرے مجرم ہوںگے۔ اور مزید کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگ چند نمازیں پڑھنے کے بعد ، چند روزے رکھنے کے بعد اور تھوڑا سا دعوتی کام کرنے کے بعد ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے دینی اور تحریکی کام کو مکمل کرکے اپنی ذمہ داری ادا کرلی ہے ، حالانکہ یہ عمل موت تک مسلسل جاری رہنا چاہےے۔گویا ان کے ذہن میں آخرت کے دن جواب دہی کا احساس ہر وقت تازہ رہتا تھا ۔اسی لیے وہ کہتے بھی تھے کہ میں صرف کتابیں بیچنے کا کام نہیں کرتا ہوں بلکہ میرا مقصد صرف اور صرف کتاب کے ذریعے قاری کی ذہنی تربیت کرنا ہوتی ہے تاکہ وہ دنیا میں رہتے ہوئے ایک اچھے مسلمان کی حثیت سے زندگی گزارے اور آخرت میں بھی سرخرو ہو سکے۔ وہ نماز عصر کے بعدہفتے میں ، 3,4روزجماعت اسلامی پنجاب کے دفتر تشریف لاتے تھے اور مختلف امور پر اپنی بے لاگ اورجچی تلی رائے کا اظہار کرتے تھے اور اس میں کسی بھی قسم کے لیت و لعل سے کام نہیں لیتے تھے گویا صاف گوئی ان کا وطیرہ تھا۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ وہ اپنی زندگی کے آخری روز وہ حسب معمول عصر کے بعد صوبہ پنجاب کے دفتر تشریف لائے تو میں وہاں موجود نہیں تھا، کچھ دیر بعد جب میں دفتر پہنچا تو وہ صوبائی دفتر کے دروازے پر کھڑے نظر آئے اور کہنے لگے کہ میں آپ کی غیر حاضری لگا کر جارہا تھا، میں نے عرض کی اکہ مسجد میں کچھ دوست مل گئے تھے جس کی وجہ سے تاخیر ہو گئی جس پر میں معذرت چاہتا ہوں ،میری بات سن کر وہ مسکرانے لگے اور کہنے لگے کوئی بات نہیں تاخیر ہو جاتی ہے ۔ بہر حال ہم بیٹھے اور مختلف امور پر بات چیت ہوتی رہی ، کچھ دیر بعد کہنے لگے کہ میں نے ابھی کامران بلاک جانا ہے ، وہاں جماعت کا کوئی پروگرام ہے مجھے کوئی ساتھی موٹر سائیکل پر وہاں چھوڑ آئے ، پھر خود ہی کہنے لگے کہ شرقی گیٹ سے موٹر سائیکل نہیں گزر سکتا ہے اور ملتان چونگی کی طرف سے زیادہ وقت لگے گا لہٰذا میں پیدل ہی چلا جاتاہوں، جاتے وقت کل عصر کے بعد دوبارہ آنے کا وعدہ کرکے چلے گئے۔ لیکن شاید کسی کو بھی یہ معلوم نہ تھا کہ وہ اب دوبارہ واپس کبھی نہیں  یںگے۔

           
           

Monday, 15 June 2015

12 جون، چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن

2 comments

12 جون، چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن

                دین اسلام انسان کی تعلیم سے لے کر موت تک ہر مرحلے میں اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسی لیے پہلی وحی کی ابتداء اقراء سے ہوئی اور حق و باطل کی پہلی لڑائی جنگ بدر کے قیدیوں کے حوالے سے آپ   نے جو حکم دیا تھا وہ بھی تعلیم ہی کے متعلق تھا۔ آپ  نے فرمایا تھا کہ ہر قیدی مسلمانوں کے بچوں کو قید کے بدلے تعلیم دے گا۔ اس سے ہم اندازہ کرسکتے ہیں کہ وحی کی ابتداء بھی تعلیم سے ہوئی اور پہلی لڑائی کے موقع پر قیدیوں کا فدیہ بھی تعلیم سکھانا رکھا گیا۔
                بچے پھول کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ان کے معصوم چہرے سورج کی پہلی کرن سے مشاہبت رکھتے ہیں۔ جو معاشرے کی ایک انتہائی معصوم اور حساس پرت ہوتے ہیں معاشرے کا ہر فرد بچوں سے پیار کرتا ہے۔ بچوں کی موجودگی سے گھروں میں رونق ہوتی ہے اور جنہیں پڑھ لکھ کر ملک کے مستقبل کا معمار بننا ہوتا ہے ۔ یہی معصوم پھول ڈالی سے ٹوٹ کر گلیوں کی دھول بن جاتے ہیں۔ جس کی ایک صورت چائلڈ لیبر کی ہے۔
چائلڈ لیبر کے بہت سے اسباب ہیں جن کے وجہ سے والدین اپنی کم سن اولاد کو کام کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ پاکستان میں عام طور وہ والدین جو بچوں کی تعلیم کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے یا کسی وجہ سے خود کمانے کے قابل نہیں رہتے یا ان کی کمائی کم ہوتی ہے مگر زیادہ افراد کی کفالت ذمہ ہوتی ہے تو ایسے میں یہ والدین اپنے بچوں کو چھوٹی عمر میں ہی کام پر لگا دیتے ہیں۔ بعض اوقات والدین کی تعلیم اور شعور میں کمی بھی اس مسئلے کا سبب بنتی ہے۔ بعض لوگوں کا نقطہ نظر یہ ہوتا ہے کہ تعلیم کا مقصد رزق کمانا ہوتا ہے۔ پس یہ والدین بچوں کو بچپن سے ہی کسی فیکٹری، کسی موٹر مکینک یا کسی اور ہنرمند کے پاس بطور شاگرد چھوڑ دیتے ہیں تاکہ بچہ جلد روزگار کمانے کے قابل ہو سکے۔
آج کل سبزی فروٹ منڈیاں ،چھپر ہوٹل، ورکشاپس سے لیکر مختلف انڈسٹریز تک چائلڈ لیبر کا گڑھ ہیں۔ سڑکوں پر گشت کرتے بچے جو حالات گردش کی بنیاد پر مارے مارے پھرنے پر مجبور ہیں۔وہ معصوم بچے جن کے ہاتھوں میں کتابوں کا بوچھ اٹھانے کی طاقت ہوتی ہے ان کے ہاتھوں میں یہ معاشرہ ورکشاپس کی صورت میں اوزار تھما دیتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے مطابق دنیا بھر میں ایک اندازے کے مطابق 168 ملین بچے مشقت کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جن کی عمر18 سال سے کم ہے۔ پاکستان کا شمار بھی دنیا کے ان چند ایک ممالک میں ہوتا ہے جہاں چائلڈ لیبر کی تعداد میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں بچوں کےحقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیم سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چلڈرن SPARC کے مطابق ملک بھر میں تقریبا ایک کروڑ 2 لاکھ بچے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ ان میں 60 لاکھ بچے 10 سال سے بھی کم عمر کے ہیں۔
دنیا بھر میں 168 ملین بچے مشقت کرنے پر مجبور ہیں۔
ملک کے 40 ملین بچوں میں سے تقریا 3.3 ملین بچے مشقت پر مجبور تھے۔
سب سے زیادہ چائلڈ لیبر صوبہ پنجاب میں پائی گئی، جہاں 1.9 ملین بچے چائلڈ لیبر کے زمرے میں آئے۔ صوبہ سرحد (خیبر پختونخواہ) میں یہ تعداد ایک ملین، صوبہ سندھ میں 2 لاکھ 98 ہزار جبکہ بلوچستان میں 14ہزار بچوں کی تعداد ریکارڈ کی گئی۔
ملک میں ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ کے مطابق، جو شخص بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کو ملازم رکھتا ہے یا اس کی اجازت دیتا ہے تو اسے 20 ہزار روپے تک جرمانہ یا قید کی سزا جسکی مدت ایک سال تک ہو سکتی ہے، یا دونوں سزائیں اکٹھی بھی دی جا سکتی ہیں۔ اگر وہ شخص دوبارہ اسی طرح کے جرم کا ارتکاب کرے تو اس کی کم از کم سزا 6 ماہ ہے جس کی مدت دوسال تک بڑھائی جا سکتی ہے۔
اعدادو شمار کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایسے بچوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو گھروں فیکٹریوں یا ورکشاپوں میں کام کرتے ہیں اور جن کی عمریں دس سے پندرہ سال کے درمیان ہیں پاکستان میں گھروں میں کام کرنے کے لئے بچوں کو انتہائی موزوں خیال کیا جاتا ہے چونکہ یہ بچے انتہائی چست ہوتے ہیں اور چوبیس گھنٹے گھر میں دستیاب ہوتے ہیں اس لئے مالکان بھی ان پر اپنا پورا حق جتاتے ہیں اور بعض اوقات ان پر ظلم بھی کرتے ہیں س حوالے سے پوری دنیا میں قانون موجود ہیں مگر شاید پاکستان ترقی پذیر ممالک میں سے واحد ملک ہے جہاں اس سلسلے میں کوئی حکومتی پالیسی یا قانون سازی نہیں کی جا سکی
ہر سال چائلڈ لیبر کے دن کے حوالے سے منعقد ہونے والی تقریبات میں یہ اعلانات تو کیے جاتے ہیں کہ اس بار اس بارے میں قانون سازی ضرور کی جائے گی مگر یہ سب اگلے ہی دن ردی کی ٹوکری کی نظر کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے آج پینسٹھ سال ہو چکے ہیں اس حوالے سے کوئی بھی خاطر خواہ قانون سازی نہیں کی جا سکی۔ اس حوالے سے میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے کیونکہ چائلڈ لیبر کی جو خلاف ورزیاں اگر رپورٹ بھی ہوئی ہیں تو وہ میڈیا نے ہی کی ہیں جس کے بعد اس بات کی اشد ضرورت محسوس کی گئی ہیں کہ اگر حکومتی سرپرستی حاصل ہو تو میڈیا اس انتہائی اہم مسئلے کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے سد باب کے لئے اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔
 انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن(ILO) نے اس بارے میں اپنی رپورٹ بتایا ہے کہ ’’ایک اندازے کے مطابق چوبیس کروڑ ساٹھ لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔ پھر ان بچوں میں سے تقریبا تین چوتھائی (سترہ کروڑ دس لاکھ) سخت مشقت والے کام کرتے ہیں جیسے کہ کانوں میں کام کرنا، کیمیکلز کے ساتھ کام کرنا اور کھیتی باڑی نیز خطرناک قسم کی مشینری کے ساتھ کام کرنا۔
ملک بھر میں قانونی پابندی کے باوجود چائلڈ لیبر کا خاتمہ نہیں ہوا۔ چودہ سال سے کم عمر بچوں سے نہ صرف غیر قانونی مشقت لی جاتی ہے بلکہ ان سے جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتاہے۔ جبکہ یہ معصوم پھول تو صرف شفقت کے حقدار ہوتے ہیں۔ جوبچے زمانے کی کڑی دھوپ کو برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوتے وہ معاشرے کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھاتے ہیں۔ انسانی حقوق کی نمائندہ تنظیم گلوبل فاؤنڈیشن کے مطابق چائلڈ لیبر کے قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کی سزا 20ہزارروپے جرمانہ اور ایک سال قید کی سزا کے باوجود بچوں سے غیر قانونی مشقت لی جاتی ہے۔
پاکستان میں 33%بچے چائلڈلیبر کاشکار ہیں۔ ایک سروے کے مطابق پنجاب میں 2500سے زائد بھٹوں پر پانچ سے بارہ سال عمر تک کے ایک لاکھ سے زائد بچے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ شہروں میں گھر کی صفائی اور چھوٹے موٹے کاموں کے لیے تقریباًتیس ہزار بچے مصروف ہیں۔ بس اڈوں ، سبزی ،فروٹ منڈیوں ، ہوٹلوں،ورکشاپوں اور دیگر صنعتیں تو چائلڈ لیبر کی خلاف ورزی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
چائلڈ لیبر میں کام کرنے والے زیادہ بچے سکولوں سے بھاگے ہوئے ہیں۔ کوئی تعلیم کے ڈر سے تو کوئی مارپیٹ اور بے رحمی کے خوف ۔ کچھ ایسے بھی بچے ہیں جو والدین کے دباؤ سے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ بچے اچھی زندگی اور تعلیم کے ساتھ ساتھ نفسیاتی طور پر جھگڑالو اور جرائم پیشہ بن جاتے ہیں۔ یہ منفی طرز عمل معاشرے کے لیے ناسور بن جاتا ہے۔ جو معاشرے کی تمام برائیوں کی ابتداء ہوتی ہے۔معاشرے میں ڈکیتی اور چوری جیسے ناسور جرائم جنم لیتے ہیں۔
چائلڈ لیبر کے خاتمے کے اقدامات کئے جائیں تو ان سے چھٹکارا حاصل ہوسکتا ہے۔ معاشرے کی سطح پر اگر ہر آدمی اپنے پڑوسی اور رشتہ داروں میں سے غریب افراد کی امداد کرے تو بھی بچوں کی مشقت کا خاتمہ ہو سکتا ہے کیونکہ ہر غریب فرد کسی نہ کسی کا پڑوسی یا رشتہ دار ضرور ہوگا۔ حکومت کے فرائض میں سے ہے کہ بے سہارا لوگوں کی کفالت کرے۔ حدیث پاک میں ہے کہ اگر کوئی آدمی قرض یا بے سہارا بچے چھوڑے تو میں ان کا مولیٰ (سرپرست) ہوں گا۔ یہ ذمہ داری آج کے مسلم حکمرانوں پر بھی ہے۔ اگر حکمران اپنے فرائض سرانجام دیں اور بیت المال اور سرکاری خزانے سے ایسے بے سہارہ خاندانوں کی مدد کریں جن کا کمانے والا کوئی نہ ہو تو چائلڈ لیبر کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی تنظیمات غریب ممالک پر چائلڈ لیبر کے باعث پابندیاں لگا کر ان کو مزید مشکلات سے دو چار کرنے کی بجائے ان ممالک کے غریب و مفلس افراد کی مدد کر کے ان کے مسائل کو حل کیا جائے۔ اگر معاشرہ، ملک اور بین الاقوامی برادری اپنے فرائض ادا کرے تو اضطراری حالات میں چائلڈ لیبر کے معاملہ کو بھی مستقل طور پر حل کر سکتی ہیں-
آئین کے آرٹیکل 11 کے تحت چودہ سال سے کم عمر بچے کو کسی کارخانے یا کان یا دیگر پرخطر ملازمت میں نہیں رکھا جائے گا۔
آئین کے آرٹیکل 25کے تحت ریاست تمام پانچ سال کی عمر سے لیکر سولہ سال کی عمر کے بچوں کیلیئے لازمی اور مفت تعلیم دینے کا انتظام کرے گی جسکا تعین قانون کر ے گا۔
آئین کے آرٹیکل 37کے تحت ریاست منصفانہ اور نرم شرائط کار، اس امر کی ضمانت دیتے ہوئے کہ بچوں اور عورتوں سے ایسے پیشوں میں کام نہ لیا جائے گا جو انکی عمر یا جنس کیلیئے نا مناسب ہوں، مقرر کرنے اور ملازم عورتوں کیلیئے زچگی سے متعلق مراعات دینے کیلیئے احکام وضع کرے گی۔
:
نیچے دیئے گئے قوانین خصوصی طور پر چائلڈ لیبر سے متعلق ہیں
ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 1991
ایمپلائمنٹ آف چلڈرن رولز1995
انکے علاوہ دیگر قوانین بھی ہیں جو بچوں کی ملازمت سے متعلق ہیں اور کام کرنے والے بچوں کے حالات کار کو ضابطے میں لاتے ہیں۔
مائنز ایکٹ1923
چلڈرن (پلیجنگ آف لیبر) ایکٹ1933
فیکٹریز ایکٹ1934
روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز آرڈیننس1961
شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس آرڈیننس1969
مرچنٹ شپنگ آرڈیننس2001
پاکستان میں ملازمت کیلیئے کم از کم عمر کی حد کیا ہے ؟
ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ کے تحت بچے سے مراد وہ شخص ہے جسکی عمر چودہ سال سے کم ہو جبکہ نوبالغ وہ ہے جسکی عمر چودہ سال سے زیادہ لیکن اٹھارہ سال سے کم ہو۔ جیسے اوپر ذکر کیا گیا کہ آئین میں بھی کم از کم عمر کی حد چودہ سال ہے لیکن اٹھارویں ترمیم نے دراصل کم از کم عمر کی حد چودہ سال سے بڑھا کر سولہ سال کر دی ہے کیونکہ اب آئین کی پچیسویں شق کے مطابق ریاست کییلیئے ضروری ہے کہ وہ پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کیلیئے لازمی اور مفت تعلیم کا انتظام کرے جس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ایک بچے سے سولہ سال کی عمر سے پہلے ہر وہ کام جو چائلڈ لیبر کے زمرے میں آتا ہو کام نہیں کروایا جا سکتا۔
اس قانون میں چند مستثنیات کا بھی ذکر ہے یعنی کچھ صورتوں میں قانون کا اطلاق نہ ہو گا۔
قانون کے مطابق بچوں کو کسی بھی ایسے پیشے، کاروباری ادارے اور پیداواری عمل میں کام کیلیئے نہیں رکھا جا سکتا جسکا تعین خطرناک کام کے طور پر کیا گیا ہو تاہم اگر کوئی بچہ، خاندانی یا نجی کاروبا ر/فیملی بزنس میں مصروف عمل ہے یا کسی ٹریننگ/تربیتی سکول (حکومت کا قائم کردہ یا منظور شدہ) میں ان پیشوں یا پیداواری عملوں سے متعلقٹریننگ لے رہا ہو تو ان پر بچوں کی ملازمت سے متعلق ممانعت کا اطلاق نہ ہو گا۔
بچوں کی ملازمت کی ممانعت کون کون سے پیشوں اور پیداواری عملوں کیلیئے کی گئی ہے؟
ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ / بچوں کی ملازمت کے قانون مجریہ1991 کی دفعہ چار کے تحت وفاقی حکومت ان تمام پیشوں اور پیداواری عملوں کے متعلق نوٹیفیکیشن جاری کر سکتی ہے جہاں بچوں کی ملازمت پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔وفاقی حکومت نے سال 2005 میں ان پیشوں اور پیداواری عملوں کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جہاں بچوں کی ملازمت پر قطعی پابندی ہے۔
ریلوے اسٹیشنوں پر سامان خوردونوش کی سپلائی/باہم رسانی سےمتعلق ہو، جسمیں ملازمین کیلیئے ایک پلیٹ فارم سے دوسرے پلیٹ فارم پر جانا شامل ہو یا چلتی ہوئی ٹرین میں چڑھنا یا اترنا شامل ہوں
ریلوے اسٹیشنوں کی تعمیر یا کوئی اور کام جو ریلوے لائنز کے نزدیک یا ریلوے لائنز کے درمیان کیا جارہا ہو
کسی پورٹ اتھارٹی پر کام جو کسی پورٹ /بندرگاہ کی حدود میں کیا جا رہا ہو۔
حصہ دوم
پیداواری عمل
زیر زمین کان میں کام اور پتھر کی کان میں کام کرنا اور کان کنی کیلیئے بلاسٹنگ /دھماکہ کرنا یا اس کام میں مدد دینا
توانائی/بجلی سے چلنے والی مشینیں جیسے آرہ، بڑی قینچیاں، کٹائی مشین، اور زرعی مشینری/آلات جیسے تھریشر، چارہ کاٹنے والی مشین وغیرہ
بجلی کی تاروں کے ساتھ کام جنمیں پچاس وولٹ سے زیادہ بجلی گزر رہی ہو
چمڑے کمانے /دباغت کا کام وغیرہ                                                      کیڑے مار اور حشرات کش ادویات بنانے یا مکس کرنے کا کام
سینڈ بلاسٹنگ کے ذریعے سے سیلیکا علیحدہ کرنے کاکام                 ایسا کام جسمیں زہریلے، دھماکہ خیز اور کینسر پیدا کرنے والے مواد کے ساتھ کام کرنا پڑے
سیمنٹ انڈسٹری میں کام                                                                                    کوئلے کا کام
آتشباز اور دھماکہ خیز مواد کی فروخت                                                    ان جگہوں پر کام کرنا جہاں ایل۔پی۔جی اور سی۔این۔جی سلنڈروں میں بھری جاتی ہے
گلاس ، دھات کی بھٹی پر کام اور کانچ کی چوڑیا ں بنانے کا کام            کپڑے کی بنائی، پرنٹنگ، رنگنے اور مختلف قسم کی تزئین کا کام
سٹون کرشنگ کا کام
پندرہ کلو یا اس سے بھاری وزن اٹھانے یا لیکر چلنے کاکام، خصوصی طور پرٹرانسپورٹ انڈسٹری میں
قالین سازی
فرش سے دو میٹر یا اس سے زیادہ اوپر کا کام
ہسپتا ل کے فضلے سمیت ہر قسم کے فضلے کی صفائی/جاروب کشی
تمباکو بنانے کاکام ، اسمیں نسوار اور بیڑی بھی شامل ہیں
ڈیپ۔سی فشنگ/گہرے سمندی میں ماہی گیری، کمرشل/تجارتی ماہی گیری، اور فش اور دیگر سی۔فوڈ کی پراسیسنگ کا کام
شیپ کیسنگ/ساسیجز بنانے کیلیئے بھیڑ کی انتڑیوں کا استعمال اور بھیڑ کی اون کا کام
شپ بریکنگ                                                                                                 سرجری کے آلات تیار کرنے کا کام
مصالحہ جات پیسنے کاکام                                                                      بوائلر ہاؤس کا کام
سینما، منی سینما، سائبر کلبز میں کام                                                        میکا کاٹنے کا کام ، یہ ایک چمکدار سیلیکا منرل ہے جو پتھروں میں پایا جاتا ہے
شیل بنانے کا کا م                                                                                              صابن بنانے کا کام
اون کی صفائی                                                                                                                بلڈنگ اور تعمیراتی صنعت میں کام
سلیٹ پنسلز کے بنانے اور اسکی پیکنگ کا کام                              اگیٹ (ایک پتھر) سے مصنوعات بنانے کا کام
نوٹ: اس نوٹیفیکیشن کی مکمل معلومات کیلیئے انگریزی والا حصہ دیکھیں۔
حکومت بچوں اور نابالغوں کے حالات کار کو کیسے ضابطے میں لاتی ہے؟
ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ کے حصہ سوم اور سیکشن سات کے مطابق ، کسی بھی بچے یا نوبالغ سے ایک دن میں سات گھنٹے سے زیادہ کام نہیں کروایا جا سکتا (اسمیں آرام کا ایک گھنٹہ بھی شامل ہےگویا اصل میں چھہ گھنٹے کاہی کام کروایا جائے گا) اور کام کی ترتیب یوں رکھی جانا ضروری ہے کہ مسلسل کام کے ہر تین گھنٹے بعد کم ازکم ایک گھنٹہ آرام کا وقفہ دینا ضروری ہے۔
فیکٹریز ایکٹ میں بچوں کی ملازمت سے متعلق شقیں موجود ہیں۔ اس ایکٹ کے پچاسویںسیکشن کے تحت چودہ سال سے کم عمر بچوں کی کسی بھی فیکٹری میں ملازمت پر مکمل پابندی عائد کردی گئ ہے۔ سیکشن اکیاون کے تحت نوبالغ، جنکی عمر چودہ سال سے زیادہ اور اٹھارہ سال سے کم ہے، انکو فیکٹری میں کام کرنی اجازت نہیں ہے جب تک انکے پاس
اہلیت کی سند/فٹنس سرٹیفیکیٹ نہ ہو جو کسی کوالیفائڈ میڈیکل پریکٹیشنر/مستند ماہر طب نے جار ی کیا ہو ، اور یہ سرٹیفیکیٹ متعلقہ فیکٹری کے مینیجر کی تحویل میں ہونا چاہیئے۔
جب وہ کام پر ہوں تو انکے پاس ایسا ٹوکن موجود ہونا ضروری ہے جس پر مذکورہ سرٹیفیکیٹ کا حوالہ موجود ہو۔
کوئی بچہ یا نوبلوغ کسی مشین پر اسوقت تک کام نہ کرے جب تک اس اس مشین سے پیدا ہونے والے تمام خطرات سے پوری طرح آگاہ نہ کردیاگیا ہواور اسکے متعلق احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات نہ دے دی گئی ہوں اور اس مشین پر کام کرنے کی اس نے کافی تربیت حاصل نہ کر لی ہو اور کسی ایسے شخص کی نگرانی میں کام نہ کر رہا ہو جو اس مشین کے بارے میں کافی علم اور تجربہ رکھتا ہو۔ فیکٹریز ایکٹ کے سیکشن اٹھائیس کے تحت یہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان خطرناک قسم کی مشینوں کی نشاندہی کرے جن پر کمسن اور نوبلوغ اوپر دی گئی ہدایات کے بغیر کام نہ کریں۔
فیکٹریز ایکٹ کے ہی بتیسویںسیکشن کے تحت عورتوں اور کمسنوں کو ،فیکٹری کے کسی ایسے حصہ میں جہاں کپاس کا کوئی بیلنا چل رہا ہو ، روئی کی گانٹھیں تیار کرنے کیلیئے ملازم رکھنے پر پابندی لگائی گئ ہے۔
شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس آرڈیننس کے تحت بچوں سے کسی بھی تجارتی/کاروباری ادارے میں کام نہیں کروایا جا سکتا (سیکشن بیس)۔ جبکہ کم عمروں (یہ اصطلاح کمسنوں/بچوں اور نوبالغوں دونوں کیلیئے اکٹھی استعمال ہوتی ہے یعنی جنکی عمر چودہ سے اٹھارہ سال کے درمیان ہو) سے صبح نو بجے سے لیکر شام سات بجے تک ہی کام کروایا جا سکتا ہے (سیکشن سات)۔اسی طرح سے اس ایکٹ کے سیکشن آٹھ کے تحت، کسی بھی کم عمر کو ایک دن میں سات گھنٹے اور ایک ہفتے میں بیالیس گھنٹے سے زیادہ کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
بچوں کی مشقت سے متعلق قانون یعنی چلڈرن (پلیجنگ آف لیبر )ایکٹ کے تحت ہر وہ معاہدہ کالعدم ہے جسمیں کسی بچے کی مزدوری/کام کو کسی معاوضے یا فائدے کے عوض گروی رکھا گیا ہو۔تاہم اس ایکٹ میں ایک استثنائی صورت یہ ہے کہ اگر یہ معاہدہ اسطرح کیا گیا ہو کہ اسکے مضر اثرات بچے پر نہ پڑیں یا بچے کی مزدوری مناسب اجرت کے عوض طے کی گئی ہو اور یہ معاہدہ ایک ہفتے کے نوٹس پر ختم کیا جا سکتا ہو توایسا کا معاہدہ کالعدم نہ ہو گا۔
مرچنٹ شپنگ آرڈیننس کے سیکشن 110 کے تحت کوئی بھی ایسا شخص جسکی عمر پندرہ سال سے کم ہو اسے سمندر/مرچنٹ شمپ میں کام کیلیئے نہیں لے جایا جائے گا تاہم اگر یہ بحری جہاز مرکز تربیت ہو جس پر ٹریننگ دی جاتی ہو یا اس شپ/بحری جہاز میں سب ایک خاندان کے لوگ ہی ملازم ہوں تو اسطرح کی پابندی لاگو نہ ہوگی۔
اگر کوئی آجر بچوں کو ملازمت کیلیئے رکھتا ہے تو اس پر کسطرح کا جرمانہ یا سزا عائد کی جاسکتی ہے؟
ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ کے سیکشن چودہ کے مطابق، جو شخص بھی بچوں کو اوپر بتائے گئے پیشوں یا پیداواری عملوں میں ملازم رکھتا ہے یا اسکی اجازت دیتا ہے تو اسے مبلغ بیس ہزار روپے تک جرمانہ ، یا قید کی سزا جسکی مدت ایک سال تک ہو سکتی ہے، یا دونوں سزائیں اکٹھی دی جا سکتی ہیں۔ اگر وہ شخص دوبارہ اسی طرح کے جرم کا ارتکاب کرے تو اسکی کم از کم سزا چھے ماہ ہے جسکی مدت دوسال تک بڑھائی جا سکتی ہے۔
دنیا ایک گلوبل ولیج ہے اور چائلڈ لیبر اس میں ہونے والا ایک اہم ایشو جس پر صدیوں سے بات ہوتی رہی ہے اور ہوتی رہے گی اگرچہ ان مسائل سے ساری دنیا دوچار ہے مگر خاص طور پر افریقہ،امریکہ اور ایشیا میں بہت عام ہے۔
ایشین ممالک 1\10مین پاور پر مشتمل ہے اعدادوشمار کے مطابق جائزہ لیں تو انڈیا میںدس سے چودہ سال کی عمر میں مزدوری کرنے والے بچوں کی تعداد45ملین کے لگ بھگ ہے برازیل میں 7 ملین نائجیریا میں 10ملین ،بنگلہ دیش میں 8سے12 ملین اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق پاکستان میں 11ملین بچے مزدوری کرتے ہیں ۔اور ان میں آدھی تعداد کی عمر10سال ہے جبکہسے ان کی تعداد1996 سے ان کی تعداد6سے7 سال تک آگئی اب یا حال ہے کہ کل آبادی کا چوتھائی حصہ مزدور بچوں پر مشتمل ہے۔اگرچہ پاکستان کے آئین کے مطابق چودہ سال سے کم عمر بچے کسی فیکٹری یا کار خانے میں کام نہیں کر سکتے کیونکہ جبری مشقت اور انسانی تجارت اسلامی جمہوریہ کے کاغذوں میں ممنوع ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بچے مزدوری کیوں کرتے ہیں ؟ اس کی بڑی اور بنیادی وجہ غربت ہے اس بہادری کے دور میں پیٹ پالنا ہی بہت بہادری کا کام ہے ۔کمعمری میں سر سے والدین کا سایہ اٹھ جانا،گھر میں بہت ذیادہ افراد کا ہونا اور کمانے والا ایک ہو تو یہ صورتحال ہوتی ہیآخر زندگی کی گاڑی بھی تو دھکیلنی ہے۔
مختلف ہوٹلوں،دکانوں،ورکشاپوں ،سگنل پہ ھاتھ میں کپڑا تھامے،یہ سب بچے ہمارے لئے سوالیہ نشان ہیں کیا ان کا دل نہیں کرتا کہ یہ سکول جائیں مگر کیا تدارک اس غربت کا؟ کیا کوئی حل نہیں آخر کب تک ہم ان مسائل کی چکی میں پستے رہیں گے اس ظلم کو سہتے رہیں گے اور ان نودمیدہ کلیوں کو کچلتا دیکھتے۔